یہ دنیا اہل دنیا کو بسی معلوم ہوتی ہے
نظر والوں کو یہ اجڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے
طلب کرتے ہو دادِ حسن تم، پھر وہ بھی غیروں سے
مجھے تو سن کے بھی اک عار سی معلوم ہوتی ہے!
اگر ہمت کرے پھر کیا نہیں انسان کے بس
ہے کم ہمتی جو بے بسی معلوم ہوتی ہے یہ
خواجہ مجذوب