31 January, 2026

خلیل الرحمان قمر صاحب نے کچھ اپنے اشعار اپنے کتبے پر لکھنے کی وصیت کی ہے۔ میں چند لوگوں کو جانتا ہوں کہ اگر وہ بھی شاعری کرتے تو کچھ ایسے ہی اشعار اپنے کتبوں پر لکھے جانے کے خواہاں ہوتے:

میں خواہشوں کے عذاب لے کر چلا گیا ہوں وہ دل، وہ خانہ خراب لے کر چلا گیا ہوں

میں چھوڑ کر اپنی راہ تکتی اداس آنکھیں جو بچ گئے تھے وہ خواب لے کر چلا گیا ہوں

جس پہ میں نے محبتوں کی وحی لکھی تھی وہ ایک ممنوع کتاب لے کر چلا گیا ہوں

بس اک اجل کو سنا گیا ہوں جو داستاں تھی میں زندگی سے حساب لے کر چلا گیا ہوں

میں قافلوں کو دکھا گیا ہوں نشانِ منزل میں راستوں کے سراب لے کر چل گیا ہوں

انہیں کہو کہ میں ڈھونڈنے سے نہیں ملوں گا میں گردِ راہ کی نقاب لے کر چلا گیا ہوں

Click to share

Recent Blogs

No recent blogs found.

Tags: