2 February, 2026

جو کھا کے پتھر دعائیں دے گا وہی رہے گا
ہر ایک نشتر کو جو سہے گا، وہی رہے گا

جو اپنے حصے کی ساری خوشیوں کو بانٹ دے گا
جو غمِ جہاں کے سمیٹ لے گا، وہی رہے گا

اداس چہروں کو جس کے دم سے خوشی ملے گی
مسرتوں کو دوام دے گا، وہی رہے گا

جو اپنی “میں” کو نکال پھینکے گا اپنے دل سے
انا کے کے ٹو کو سر کرے گا، وہی رہے گا

شکایتوں کو سنبھال رکھے گا اپنے دل میں
جو اُن کے آگے نہیں کہے گا، وہی رہے گا

جو اپنے حصے کے سب خزینے کمائی
ساری خدا کے بندوں پہ وار دے گا، وہی رہے گا

جو کھا کے پتھر دعائیں دے گا، وہی رہے گا
ہر ایک نشتر کو جو سہے گا، وہی رہے گا

افتخار عارف

Click to share

Recent Blogs

No recent blogs found.

Tags: