2 February, 2026

Last night, I met with a CFO of a multinational whom our Ministry of Finance often calls in for advice. What he said was stunning. The only way, he believes, for Pakistan to come out of the debt fiasco is to default on the loans. He explained how Ecuador, a South American country, has made a remarkable financial recovery, and one of the main pillars of its strategy was the default.

As I did research, the reality started to sink in. I was flooded with thoughts.

Allah (SWT) says in the Quran: “O you who have believed, fear Allah and give up what remains [due to you] of interest if you should be believers. And if you do not, then be informed of a war [against you] from Allah and His Messenger.” (2:278–279)

How can a nation thrive when at war with Allah (SWT)? We should declare paying interest unconstitutional and refuse to pay interest. Let us default. Let us choose to battle the world instead of Allah (SWT). Here is an exciting piece of writing that I came across:

ایک شخص نے ایک مرغا پالا تھا۔ ایک بار اس نے مرغا ذبح کرنا چاہا۔ مالک نے مرغے کو ذبح کرنے کا کوئی بہانہ سوچا اور مرغے سے کہا کہ کل سے تمہیں اذان نہیں دینی ورنہ ذبح کردوں گا۔ مرغے نے کہا ٹھیک ہے آقا جو آپ کی مرضی! صبح جونہی مرغے کی اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی لیکن حسبِ عادت اپنے پروں کو زور زور سے پھڑپھڑایا۔

مالک نے اگلا فرمان جاری کیا کہ کل سے تمہیں پر بھی نہیں ہلانے ورنہ ذبح کردوں گا۔ اگلے دن صبح اذان کے وقت مرغے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پر تو نہیں ہلائے لیکن عادت سے مجبوری کے تحت گردن کو لمبا کر کے اوپر اٹھایا۔ مالک نے اگلا حکم دیا کہ کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے، اگلے دن اذان کے وقت مرغا بالکل مرغی بن کر خاموش بیٹھا رہا۔ مالک نے سوچا یہ تو بات نہیں بنی۔ اب کی بار مالک نے بھی ایک ایسی بات سوچی جو واقعی مرغے بے چارے کے بس کی بات نہیں تھی۔ مالک نے کہا کہ کل سے تمہیں صبح انڈا دینا ہے ورنہ ذبح کردوں گا۔ اب مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی اور وہ بہت زار و قطار رویا۔ مالک نے پوچھا کیا بات ہے؟ موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟ مرغے کا جواب بڑا باکمال اور با معنی تھا۔ کہنے لگا:

“نہیں! اس بات پر رو رہا ہوں کہ انڈے سے بہتر تھا اذان پر مرتا۔”

Some words from Maulana Mohammed Ali Jauhar:

تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے

ہیں یوں تو فدا ابرِ سیہ پر سبھی مے کش
پر آج کی گھنگھور گھٹا میرے لیے ہے

کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

Click to share

Recent Blogs

No recent blogs found.

Tags: