11 February, 2026
In Gaza today, the sentiments of Ismail Haniyeh, the chairman of Hamas, are beautifully captured by the words of Iqbal:
(آج غزہ میں، حماس کے چیئرمین اسماعیل ہنیہ کے احساسات کا احاطہ علامہ اقبال کے الفاظ میں)
اٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
ہویدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
الٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
بیابانِ محبت دشتِ غربت بھی وطن بھی ہے
حیاتِ جاوداں میری نہ مرگِ ناگہاں میری
یہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہے
مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
مرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایسا
وہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
چھپا جس میں علاجِ گردشِ چرخِ کہن بھی ہے
ریاضِ دہر میں نا آشنائے بزمِ عشرت ہوں
بنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گل پر آشیاں اپنا
خوشی روتی ہے جس کو میں وہ محرومِ مسرت ہوں
چمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا