24 January, 2026
On my way back from Afghanistan, the following verses of poetry of Ahmed Faraz struck a chord:
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا
تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن
مجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا